بابر بہت ضدی تھا ۔یوں تو اس کی عمر صرف ڈیڑھ برس تھی، لیکن جب وہ ضد کرنے پر آتا۔۔۔۔تواللہ کی پناہ، چھٹی کا دودھ یاد دلا دیتا۔
اب کل ہی کا ماجرا سُن لیجیے، ابھی نازش کچن میںداخل ہی ہوئی تھی کہ با بر جو اچھا بھلا لائونج میں کھیل رہا تھا ،سب کھیل کود چھوڑ کر دروازے پر آکھڑا ہو ااور گود میں آنے کی ضد کرنے لگا۔بھلا بتائیے !کچن میں ماں ہانڈی چولھا کرے یا بچّہ کھِلائے، اور اگر خدانخواستہ تیل کا کوئی چھینٹا پڑجائے یا کوئی اور نقصان ہوجائے۔۔۔ تو ایک نئی پریشانی۔
پہلے تو نازش نے بابر کو سمجھابُجھاکراندر آنے سے روکنے کی کوشش کی۔لیکن وہ بابر ہی کیا جوبات سمجھ جائے، اُس نے اُلٹا رونا شروع کردیا۔ نازش کامارے جھنجلاہٹ کے بُرا حال تھا، غصّے میں جھٹکے سے اُس نے بابر کو اُٹھایا اور لائونج میں چھوڑ آئی۔ تھوڑی دیر میں بابر کی رگِ تجسّس پھر پھڑک اُٹھی او روہ نازش کی نظر بچا کر خاموشی سے باورچی خانے میں داخل ہوگیا، اورتیزی سے چولھے کی جانب بڑھنے لگا ۔ نازش کی نظر پڑی تو وہ چولھے کے بہت قریب پہنچ چکا تھا۔ سب کام چھوڑ کروہ بابر کی جانب لپکی اورڈانٹتے ہوئے اُسے کچن سے باہر نکال دیا۔ بابر کہاں باز آتا۔ چند لمحے بعد اُسے پھر بے چینی شروع ہوگئی اور ماں کو دوسری جانب مصروف دیکھ کرپھر اندرگھس آیا۔ اس دفعہ تو وہ چولھے کے نیچے بنی درازوںپر سیڑھی کی طرح چڑھتے ہوئے چولھے کے بہت نزدیک پہنچ گیا۔ نازش کی نظرپڑی توگھبرا کر بابر کی جانب بڑھی اور جلدی سے اُسے نیچے اُتارا۔ اب تو غصّے کے مارے نازش کا پارہ آسمان پر پہنچ گیا۔ جھنجلاہٹ میں اس نے بابر کو دو چارتھپڑ بھی رسید کردیے ۔بابر دھاڑیں مار مار کر رونے لگااور روتے ہوئے باورچی خانے سے باہر نکل گیا۔ نازش کابھی سارا موڈ غارت ہوگیا تھا۔ جب کافی دیر تک بابر کے رونے کی آواز بند نہ ہوئی تو نازش کو اپنی غلطی کا احساس ہوا۔باہر نکل کراُس نے بابر کو گود میں اُٹھایا اور پیار سے چمکارنے لگی۔اُس کا رونا بند نہ ہوا۔ وہ ماں سے بری طرح ناراض تھا نازش نے ڈھیروں لاڈ کیے مگر بابر کا رونا بندنہ ہوا۔اِس اثنا میںاچانک کچن سے کھانا جلنے کی بُو آنے لگی ۔ نازش بابر کو گود میںلیے چولھابندکرنے کچن کی جانب دوڑی۔ چولھے کے نزدیک پہنچتے ہی حیرت انگیز طور پر بابر بھی چپ ہو گیا۔ نہ صرف چپ ہو گیا بلکہ خوشی سے ہنسنے لگا۔
اس طرح کے مناظر آئے دن ہمیں اپنے گھروں میں دیکھنے کو ملتے ہیں۔ آئیے اس واقعے کو ذرا تفصیل سے جاننے اور حقیقتِ حال کو سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں۔
یہاں دو باتیں قابل ذکر ہیں۔نازش یہ سمجھ ر ہی تھی کہ چونکہ اس نے بابر کو گود میں اُٹھا کر پیار کیا اس وجہ سے وہ خاموش ہو گیا ۔جبکہ حقیقت یہ تھی کہ جب بابر کے تجسس کی تسکین ہوگئی اور اُس نے یہ جان لیا کے چولھے پر کیا اور کیسے پک رہا ہےتو وہ خاموش ہوگیا۔دوسری طرف بابر کے مزاج میں یہ رویہ پیدا ہوا کہ چیخنے چلانے اور رونے دھونے سے اپنی بات منوائی جاسکتی ہے۔اور اگر میں اگلی بار بھی اسی طرح روئوں دھوئوں تو امی میری بات مان لیں گی ۔ ایسے واقعات جب گھروں میں بار باررونما ہوں اور ماں باپ کی جانب سےہر بار بچے کو ڈانٹا جائے تو بچے خود سر اور ضدّی بن جاتے ہیں۔
بچے فطرتاََ تجسّس پسند ہوتے ہیں،اوراپنے تجسّس کی فوری تسکین چاہتے ہیں۔اوائلِ عمرمیںبچوں میں یہ کیفیت اپنے عروج پر ہوتی ہے ۔وہ دیکھ کر ، چھو کر ، کام کر کے اور محسوسات کے دیگر تجربات کی مدد سے اپنی تسکین کرتے ہیں، اور جوشے بھی اس عمل میں رکاوٹ بنتی ہے وہ اس کے سامنے ڈٹ جاتے ہیں، اور ہر حال میں اپنے تجسّس کی تسکین چاہتے ہیں۔ جب وہ دیکھتے ہیں کہ والدین ان کا مطالبہ، رونے دھونے ، چیخنے چلانے اور چیزیں توڑنے پر پورا کرتے ہیں تو وہ ایسا ہی رویہ اپناتے ہیں۔یوں والدین کا غلط طرزِ عمل بچوںکو ضدّی بنا دیتا ہے۔
عام طور پر تین سال سے کم عمر بچوں میں ضد کا عنصرفطری طور پر شامل ہوتاہے۔ عمر کے اس حصّے میں ان کی ضدکی عادت ختم نہیں کی جاسکتی، لہذا اس عمر میں والدین کو بچوں کے رویّے کو برداشت کرنا اور سمجھداری سے نمٹنا ہوتا ہے۔ اس عمر میں بچے ہر شے سے متعلق متجسّس ہوتے ہیں اور ہر کام خود کرنا چاہتے ہیں۔لیکن بہرحال یہ بات بھی ممکن نہیں کہ انھیںہر کام کرنے کی اجازت دے دی جائے کیونکہ کچھ کام ناخوشگوار حادثے کا بھی سبب بن سکتے ہیں۔ اس مسئلے کا سادہ سا حل یہ ہے کہ ا یسے تمام کام والدین خود اپنی نگرانی میںبچوںسے کروائیں، تاکہ بچوںکے تجسّس کی بھی تسکین ہوجائے اور انھیں کوئی نقصان بھی نہ پہنچے۔مثال کے طور پراگر بچہ خودسے سیڑیاں چڑھنے یا بالکونی کی گرل پر کھڑا ہو نے کو کہے، تو اسے ہاتھ پکڑ کر سیڑھیاں چڑھوائیں اورخود اس کے ساتھ بالکونی میں کھڑے ہوں۔ اور اگر چھُری سے کچھ کاٹنے کی ضد کر رہا ہو تواس سے کوئی سبزی یا پھل کٹوائیں لیکن یہ سارا عمل اپنی نگرانی میں کروائیںتاکہ چھُری کی دھار سے اسےکوئی نقصان نہ پہنچے۔ اس طرح محفوظ ماحول میںبچوں کے بہت سارے مطالبات مانے جاسکتے ہیں۔ایسا کو ئی بھی عمل ۱۰ سے ۱۵ باردُہرانے سے بچوں کے تجسّس کی تسکین ہو جاتی ہے اور و ہ ضدی بننے سے بھی محفوظ رہتے ہیں ۔
یہ رویّہ اختیار کرنے سے پانچ سال کی عمر تک پہنچتے پہنچتے بچے میں سے ضد ختم ہو جاتی ہے ۔لیکن اگراس کے برعکس رویّہ اختیاکیا جائے تو ضد بچے کے مزاج اور شخصیت کا حصّہ بن جاتی ہے، اور پھر اسے ختم کرنا بہت مشکل ہوجاتا ہے۔
یاد رہے کہ پانچ برس کی عمر تک بچہ ”نہیں ” کا لفظ نہیں سمجھتا ۔ اور جب ہم بچے کو اس طرح منع کرتے ہیں کہ ‘فلاں کام نہ کرو’ تو وہ سمجھتا ہے کہ ‘فلاں کام کرو’۔ لہٰذا،ابتدائی عمرکے دوران محفوظ ماحول اور اپنی نگرانی میں بچوں کے مطالبات پورے کرنے چاہیں۔تاکہ اُن کے تجسس کی بھی تسکین ہوجائے اور وہ نئی نئی چیزوں کے متعلق جان سکیں۔اور سب سے بڑھ کر یہ کہ یوں ان میں ضدی پن کو پیدا ہونے سے روکا جا سکے۔
شائع شدہ ، ماہنامہ طفلی، شمارہ نومبر۲۰۱۸
سبسکرپشن کے لیے کلک کیجیے۔
Buhut zabardast
سر میری بیٹی میرے پاس نہیں آتی وہ اپنی دادی کے پاس جاتی ہے اس کی دادی کو بہت دفعہ کچھ پڑھ کر پھونک مارتے دیکھا ہے میں نے اس کے بعد سے میری بیٹی ہوگئی ہے ایسی کوئی حل بتائیں پلیز
vvv good information Shared
سر میری بیٹی میرے پاس نہیں آتی وہ اپنی دادی کے پاس جاتی ہے اس کی دادی کو بہت دفعہ کچھ پڑھ کر پھونک مارتے دیکھا ہے میں نے اس کے بعد سے میری بیٹی ہوگئی ہے ایسی کوئی حل بتائیں پلیز